ماضی اور آج کی بیٹی…لمحہ فکریہ!(انتخاب:ہانیہ بتول)

بڑوں سے سنا کرتے تھے کہ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں ۔ لوگ دشمن کی بیٹی کو بھی اپنی بیٹی سمجھتے تھے اور دشمنی میں کبھی گھر کی عورتوں کو نہیں لاتے تھے ۔
لیکن افسوس کہ آج کل دشمنی تو دور کی بات مخالفت میں بھی دوسرے کے گھر کی عورتوں کی سرعام تذلیل کی جارہی ہے ۔ انکے بارے میں بیہودہ باتیں کی جاتی ہیں۔اور اسے فخر سمجھا جاتا ہے کہ ہم نے نہ جانے کون سا کارنامہ سر انجام دے دیا
فیس بک پر اس قسم کے دانشوروں سے میرا ایک سوال ہے ۔ اگر آپ کا کوئی مخالف فیس بک پر آپ کی بہن، بیوی یا بیٹی کی تصویر لگائے کر بیہودہ کمنٹ کرے یا اس کا نام لکھ کر کوئی پوسٹ کرے تو کیا آپ کی غیرت گوارہ کرے گی ۔ کیا آپ اسے بھی اظہار رائے کی آزادی کا نام دیں گے ۔ میں جانتی ہوں کہ آپ سب کا جواب نفی میں ہوگا ۔ تو پھر آپ یہ سب کچھ کرتے وقت کیوں نہیں سوچتے کہ مخالف کی بیٹی بھی تو ایک عورت ہے وہ بھی کسی کی بہن ہے ماں ہے جب وہ یا اس کے گھر کا کوئی فرد آپ کی پوسٹ پڑھتا ہوگا تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگئی ۔ آپ صرف اس لیے یہ سب جائز سمجھتے ہیں کہ وہ آپ کے مخالف کی بیٹی ہے
کس مسلمان کی عزت اور تکریم تو اللہ کے نزدیک اپنے گھر سے بھی بڑھ کر ہے تو کبھی سوچا ہے کہ قیامت کے دن اگر انہوں نے تمہارا گریبان پکڑ کر اللہ سے انصاف مانگا تو تمہارے پاس کیا جواب ہوگا ۔
سوچ لو اس دن کیا جواب دو گے کیونکہ فیس بک پر جو لکھتے ہو وہ ایک اور بک میں بھی محفوظ ہورہا ہے جسے اعمال نامہ کہتے ہیں-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں