سندھ کے چھوٹے گاؤں سے سی ایس ایس کرنے والی مُسیرا

سندھ کے ضلع گھوٹکی کے ایک چھوٹے گاؤں سے انٹرمیڈیٹ کے بعد گھر پر تعلیم حاصل کرنے والی مُسیرا دھاریجو فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرنے والی دھاریجو برادری کی پہلی لڑکی بن گئی ہیں۔

شمالی سندھ کے پسماندہ قبائل میں کسی چھوٹی بات پر شروع ہونے والا جھگڑا سالوں تک چل سکتا ہے۔ یہاں ماضی میں اغوا برائے تاوان، لوٹ مار جیسے جرائم کے ساتھ ساتھ خواتین کو غیرت کے نام پر کاری قرار دےکر مار دینے کے واقعات عام ہیں۔

گھوٹکی آٹھ اضلاع پر مشتمل شمالی سندھ کا حصہ ہے جہاں لڑکیوں کی تعلیم کو اچھا نہیں سمجھا جاتا، لیکن سمارٹ فون، فور جی انٹرنیٹ اور فیس بک سمیت سماجی رابطوں کی ویب سائٹس آنے کے بعد اس خطے کے بڑے شہروں میں حالیہ سالوں میں بچیوں کی تعلیم میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ان سب کے باوجود ابھی دیہاتی علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم میں بہتری آنے میں وقت لگے گا، ایسے میں مُسیرا کی کامیابی کوئی چھوٹی بات نہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی ٹیلی فونک انٹرویو میں انہوں نے بتایا: ’ایسا نہیں کہ گھوٹکی میں لڑکیاں تعلیم حاصل نہیں کرتیں، مگر ہاں کوئی لڑکی کمیشن کے بارے میں سوچتی تک نہیں۔‘

گھوٹکی سے چند کلومیٹر دور گاؤں محمد پور گوٹھ کی رہائشی مُسیرا نے ایک مقامی سکول میں انٹرمیڈیٹ مکمل کرنے کے بعد گھر میں تعلیم جاری رکھی۔

اس علاقے میں لڑکوں کو تعلیم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے مگر لڑکیوں کو بنیادی تعلیم کے بعد زیادہ پڑھنے کی اجازت نہیں، لہٰذا مُسیرا نے انٹرمیڈیٹ کے بعد ڈگری کالج میں داخلہ لے لیا مگر پڑھائی گھر پر جاری رکھی اور صرف بی ایس کے امتحان دینے کالج جاتی تھیں۔

’جب میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں بیٹھی تو میرا مُقابلہ ان سے تھا جو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور دیگر اداروں سے تھے۔ مگر میں ایسی لڑکی تھی جس نے صرف انٹرمیڈیٹ تک باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ سندھ میں تعلیمی معیار کے بارے میں تو سب جانتے ہیں۔ میں نے باہر کی دنیا کی مدد کے بغیر خود تعلیم حاصل کی۔‘

فروری 2019 میں سی ایس ایس کا امتحان دینے اور 31 مئی 2019 کو پاس ہونے کے بعد انہیں ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹ گروپ ملا ہے۔ اب وہ تقرری کا انتظار کر رہی ہیں اور جلد ملازمت اختیار کر لیں گی۔

انہوں نے بتایا: ’جب میں نو سال کی تھی تب میرے والد وفات پا گئے۔ بعد میں مجھے پتہ چلا کہ میرے والد کی خواہش تھی کہ ان کا کوئی بیٹا یا بیٹی کمیشن پاس کرے۔ یہ جان کر کمیشن پاس کرنا میرا مشن بن گیا اور آخر کار میں ان کا یہ خواب پورا کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

’یہ صرف میرے والد کی خواہش پوری نہیں ہوئی بلکہ میں نے علاقے کی لڑکیوں کے لیے ایک مثال قائم کر دی ہے کہ اگر وہ ایسا کرنا چاہیں تو کچھ بھی ناممکن نہیں۔‘

مسیرا کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے کمیشن کے امتحان میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا تو ان کو اندازہ تک نہ تھا کہ یہ کتنا بڑا امتحان ہوتا ہے، ’مگر مجھے بچپن میں پڑھی ہوئی ایک نظم یاد تھی کہ اگر حوصلہ ہو تو پہاڑ بھی کچھ نہیں ہوتا اور میں نے اپنے حوصلے بلند رکھے اور یہ کر دکھایا۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں