یوم تکبیر (از: رانا بشیر فرینکفرٹ )

جو قومیں اپنے قومی ہیروز کو بھول جاتی ہیں یا ان کے ساتھ ذلت آمیز سلوک کرتی ہیں ان کا حال موجودہ پاکستان جیسا ہی ہوتا ھے دکھ کی بات ہے کہ ہم نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح،ذوالفقار علی بھٹو ، ڈاکٹر عبد القدیر خان اور میاں محمد نواز شریف کے ساتھ جو کچھ کیا وہ قابل شرم بھی ہے اور قابلِ مذمت بھی ، جس عظیم راہنما نے قوم کو پاکستان بنا کر دیا آخری لمحات میں بیچ چوراہے سڑک پر کھڑی بوسیدہ اور ناکارہ ایمبولینس میں اس بے کسی کے عالم میں پڑے تھے کہ ان کے منہ پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں جس ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو پہلا متفقہ آئین دیا بھارتی قبضہ سے چھ سو مربع میل رقبہ اور نوے ہزار جنگی قیدی آزاد کروائے ، گھاس کھا کر ایٹم بم بنانے کا عندیہ دیا اسے ہم نے پھانسی کے تختے پر لٹکا دیا جس محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان نے شب وروز کی محنت سے ناممکن کام کو ممکن بنا کر ملک کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا اسے ہم نے ذلت کی گہرائیوں میں دھکیل کر مثال عبرت بنا دیا جو آج بھی آزادی کے لئے پھڑپھڑا رہا ہے مگر ناکام ہے وہ وزیر اعظم میاں نواز شریف جس نے امریکی صدر کلنٹن کی ایٹمی دھماکے نہ کرنے کی صورت میں پانچ ارب ڈالر کی پیشکش کو ٹھکرا تے ہوئے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا جواب دینے کا حکم جاری کر کے خطے میں بھارت کی بالا دستی کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا اسے جیل میں بند کر کے ایک تماشا بنا دیا گیا ہے 28 مئی جسے پوری قوم یوم تکبیر کے نام سے نہایت پر جوش طریقے سے منا کر اپنا سر فخر سے بلند کیا کرتی تھی آج حکومت نے جس نیم دلی کے ساتھ منایا اس سے کہاں کیا پیغام پہنچا سب جانتے ہیں آج ذوالفقار علی بھٹو کی روح بھی تڑپی ہو گی اور دیگر ایٹم بم کے تخلیق کار اور دھماکے کرنے کا حکم جاری کرنے والا جیل میں بند میاں نواز شریف بھی بے چین ہوا ہو گا نئے پاکستان کے موجودہ حکمران اگر اپنی عظیم تخلیق اور اس کے معماروں کو فراموش کر دیں گے تو یاد رکھیں آنے والے وقتوں میں ان کو یاد کرنے والا بھی کوئی نہ ہو گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں