انیلہ پرمار کی خود کشی اور ذاتی معلومات شیئر کرنے پر بحث

بدین سے تعلق رکھنے والی 18 سالہ انیلہ پرمار کی خودکشی کی خبریں چند دن قبل سامنے آئیں اور انھوں نے اپنی ایک ویڈیو لیک ہو جانے کے خوف سے اپنی جان لی۔

انیلہ کی لاش کے پاس موجود خط میں لکھا تھا کہ وہ اپنی زندگی ختم نہ کرتیں اگر ان کی برادری کے تین لڑکے ان کا جینا دوبھر نہ کرتے۔ اسی ویڈیو کے لیک ہوجانے کے ڈر سے انھوں نے سوعم، مہیش اور اشوک کے دھمکانے پر ان کو 50 ہزار روپے بھی دیے تھے۔

ایس ایس پی پولیس بدین حسن سردار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انیلہ نے اپنے والد ڈاکٹر لکشمن پرمار کے ذریعے متعلقہ تھانے میں درخواست بھی جمع کروائی تھی۔

’ہم ان کی مدد کر رہے تھے اور اس واقعے میں ملوث اہم کردار سوعم کے فون کا سی ڈی آر یعنی فون کا تمام تر ریکارڈ نکال چکے تھے۔ اور فون کے ذریعے اس کی رہائش گاہ بھی ڈھونڈ لی تھی۔ لیکن وہ اس وقت وہاں سے غائب ہوگیا اور انیلہ کے بارے میں اس کے والد نے بتایا کہ وہ ذہنی دباؤ کا شکار تھی۔ ابھی یہ معاملہ چل ہی رہا تھا کہ ہمیں ان کے والد نے بتایا کہ انیلہ نے زہر کھا کر اپنی جان لے لی ہے۔‘

حسن سردار خان نے بی بی سی کو یہ بھی بتایا کہ تینوں ملزمان پر قتل باالسبب کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

خبر آنے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر کئی لوگوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جس کے بعد ایس ایس پی بدین کے مطابق تین میں سے دو ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔

جیسا کہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے سوشل میڈیا پر ہی کچھ لوگوں نے اس واقعے کی ذمہ داری انیلہ پر تھونپنے کی بھی کوشش کی۔

ساتھ ہی کچھ لوگوں نے بلیک میلنگ اور دھمکی آمیز پیغامات سے نمٹنے کے لیے لڑکیوں کی مدد کے لیے بنائی گئے ٹول نمبرز بھی شیئر کیے۔

ایس ایس پی حسن سردار نے بتایا کہ انھوں نے انیلہ کے گھر والوں کو فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی کے سائبر کرائم ونگ کے بارے میں بتایا تھا کیونکہ کیس کی نوعیت سائبر کرائم کے زُمرے میں آتی تھی۔

لیکن گھر والے اور انیلہ پولیس کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کروانا چاہتے تھے، جو کہ ہوا لیکن انیلہ کی موت کے بعد۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نگہت داد نے بی بی سی کو بتایا کہ جب سنہ 2016 میں اس حوالے سے قانون پاس کیا گیا تھا تو اس کا بنیادی مقصد بچیوں کو درپیش مسائل سے بچانا تھا جن میں بلیک میلنگ سرِ فہرست ہے۔

’لیکن بچیوں کے نام پر قانون تو بن گیا لیکن اس کی تشہیر نہیں کی گئی۔ لوگوں کو نہیں پتا کہ اگر وہ دوسروں کو تنگ یا ہراساں کریں گے تو اس کی سزا کیا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ پچھلے تین برسوں میں ان کے ادارے کو 3000 کے قریب شکایات موصول ہوئی ہیں جن کی زیادہ تعداد بلیک میلنگ سے منسلک ہیں اور جن میں بغیر مرضی کے تصاویر شیئر کرنا بھی شامل ہے۔

قانون کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے ایڈشنل ڈائیرکٹر چوہدری عبدالرؤف نے بتایا کہ ’زیادہ تر مقدمات صرف اس لیے ختم ہوجاتے ہیں کیونکہ بلیک میل ہونے والے افراد سامنے نہیں آتے اور عدالت بغیر بیان کے مقدمہ نہیں چلاسکتی۔ اس لیے قانون ہونے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ لوگ اس قانون کو استعمال کرتے ہوئے سامنے آئیں۔‘

اکثر مقدمات جن میں کسی لڑکی کی تصاویر اس کی مرضی کے بغیر شیئر کی جاتی ہیں اس میں لڑکی کے موبائل یا فیس بُک کا پاس ورڈ ان کے منگیتر یا دوست کے پاس موجود ہوتا ہے۔ پھر رشتہ کسی بھی وجہ سے ختم ہو یہ معلومات لڑکی کے خلاف استعمال کی جاسکتی ہے۔

’ضروری نہیں ہر رشتہ اچھے خیالات کے ساتھ ختم کیا جائے، جب رشتہ ختم ہونے کی بنیاد غصہ ہو تو یہی معلومات جو رشتے کے دوران معمولی لگتی ہے کسی بھی انسان کی جان لینے کے مترادف ہو سکتی ہیں‘،جیسا کہ انیلہ کے کیس میں دیکھنے میں آیا۔

نگہت داد نے بتایا ’آپ کی معلومات خواہ وہ آپ کی تصاویر کی شکل میں ہوں یا پاس ورڈ کی شکل میں، آپ کی اپنی ہے۔ وہ ہر کسی کے ساتھ نہ بانٹیں چاہے کوئی آپ کا کتنا ہی اچھا دوست ہو۔‘

اس سے نمٹنے کے لیے ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن نے لڑکیوں کی بروقت مدد کے لیے ایک ٹول نمبر جاری کیا ہے جہاں شکایات درج کی جا سکتی ہیں۔ یہ نمبر ہے 0800-39393 جس پر آپ صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کال کر سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر آپ نیا موبائل لے رہی ہیں تو پھر پرانے فون میں موجود تمام تر ریکارڈ کو یا تو ایک جگہ نہ رکھیں یا پھر فون سے نکال دیں۔

انیلہ جیسی کئی لڑکیوں کے سامنے نہ آنے کی دو بڑی وجوہات خوف اور شرمندگی ہے۔ جو ان مقدمات پر کام کرنے والے اداروں کے مطابق ان کا قصور نہیں ہے۔

نگہت نے بتایا کہ اکثر لڑکیاں اس لیے بلیک میلنگ کے بارے میں شکایات نہیں کرتیں کیونکہ ان کو ڈر ہوتا ہے کہ پہلے تو ان کی سنی نہیں جائے گی اور اگر سنی گئی تو ان کو دی گئی آزادی چھین لی جائے گی۔ ان کی پڑھائی روک دی جائے گی یا پھر مستقبل میں کام کرنے پر پابندی عائد کی جائے گی۔

’ہمیں ایسا ماحول بنانا ہے کہ جس میں ہم ان سب لڑکیوں کو یہ بتا سکیں کہ آپ اکیلی نہیں ہیں، اور آپ قصوروار بھی نہیں ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ہمیں لڑکیوں کو ہمت دینی ہے کہ ان باتوں کو چھپانے کے بجائے ان کو سامنے لایا جائے۔ تاکہ کل کو ہم کسی اور انیلہ کو خودکشی کا فیصلہ کرنے سے روک سکیں۔

(بشکریہ:بی بی سی اردو)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں