امریکہ میں پاکستان کی توانا آواز “کونی” کا سفر زندگی اختتام پذیر ہوا ‎

مس کونی سے میرا پہلا تعارف اور شناسائی 2000ء کے آخری مہینوں میں پاکستان مشن نیویارک میں اس وقت ہوئی تھی جب میں بطور صحافی اور انتخابی مشاہدہ کار کے امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات کو مائنٹر کرنے آیا تھا. فلپائنی نثزاد امریکن اس خاتون اصل نام تو ماریہ کنسولیو المونٹ (Almonte Consuelo Maria) تھا. مگر یہ نیویارک کے سفارتی حلقوں اور خصوصاً پاکستانی صحافیوں میں” کونی” کے نام سے جانی اور پہچانی جاتی تھیں.
نیویارک اور واشنگٹن میں مقیم صحافیوں اور خصوصاً پاکستان سے عارضی طور پر امریکہ آنے والے اخبار نویسوں کے لیے انکی فارن پریس سنٹر اور اقوام متحدہ کی ایکریڈیشن میں مدد کے ہر دم چوکس ملتی تھیں.


ہردلعزیز کونی پاکستان مشن برائے اقوام متحدہ میں”لوکل ایمپلائی” کے طور پر (1968ء تا 2011ء) مسلسل 43 برس تک اپنی خدمات سرانجام دیتی رہیں.
ستمبر 1937ء میں فلپائن میں پیدا ہونے والی کونی 1968ء میں یونیورسٹی آف فلپائن سے اپنی ایم اے کی ڈگری مکمل کرنے کی غرض سے نیویارک کے ہنٹر کالج میں داخل ہوئیں. اسی دوران جب مرحوم آغا شاہی اقوام متحدہ کے لیے پاکستان مشن نیو یارک کے مستقل مندوب تھے. کونی انہی کے دور میں مشن کے انفارمیشن سیکشن میں پریس منسٹر کی سیکرٹری کے طور پر ملازمت مل گئی. جس کو انہوں بڑی جانفشانی اور کمٹمنٹ کے ساتھ نبھایا. اور اپنی اس ریکارڈ 43 سالہ ملازمت کے دوران انہیں کم وبیش ایک درجن کے قریب مستقل مندوب حضرات، پریس اتاشی، پریس قونصلرز اور پریس منسٹرز کے ساتھ کام کرنے کے مواقع میسر آئے. انکی بنیادی ذمہ داری پاکستانی و فارن میڈیا کے ساتھ رابطہ کار اور اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کرنے کی غرض سے امریکہ آنے والے پاکستانی سربراہءمملکت، وزرائے اعظم اور وزرائے خارجہ کے لیے امریکی میڈیا میں انٹرویوز، پریس کانفرنسوں کی مؤثر انداز میں کوریج اور پاکستانی موقف کو اجاگر کرنا ہوتا تھا.
پاکستان کے لئے انکی طویل اور مؤثر خدمات کے اعتراف میں انہیں دو اعزازات سے نوازا گیا.


1996ء میں انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے “تمغہءخدمت” دیا گیا. جس کو وصول کرنے کی غرض سے کونی سرکاری مہمان کے طور پر اپنے امریکی شوہر مارک شیفر کے ساتھ اسلام آباد تشریف لائیں. دوسرا اعزازاپنی رئٹائیرمننٹ کے سال 2011ء میں “میڈل آف حسن کارکردگی” آزاد کشمیر کے صدر کے ہاتھوں وصول کیا.
جبکہ نیویارک میں پاکستان لیگ آف امریکہ کی جانب سے بھی انہیں “لائف ٹائم اچیومننٹ ایوارڈ” سے نوازا گیا تھا.
امریکہ میں فلپائنی کمیونٹی کےایک میگزین کو 2014ء میں ایک انٹرویو کے دوران کونی نے بتایا تھا کہ پاکستانی مشن کی ملازمت کے ساتھ ساتھ وہ نیویارک جیسے مہنگے شہر میں اپنی معاشی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دس سال تک ایک فرانسیسی ہوٹل میں نائٹ مینجر کے طور پر بھی کام کرتی رہیں.
انکا یہ بھی کہنا تھا کہ کئی مواقع پر انہیں پاکستان کے لیے بھرپور موقف اجاگر کرنے کے لیے انہیں کئی حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا. ایسا خصوصاً اس وقت کیا گیا جب امریکہ نے اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی پر انہیں ہلاک کرنے کے لیے ریڈ کیا.


ایسے وقت میں جب پاک امریکہ تعلقات انتہائی تناؤ کا شکار تھے. مگر انہوں نے اپنے اوپر تنقید کی پرواہ کیے بغیر اپنے فرائض کو اسی تندہی سے جاری رکھا. انکا کہنا تھا کہ بڑے امریکی نشریاتی اداروں اور اخبارات، خصوصاً سی این این، اے بی سی، این بی سی اور نیو یارک ٹائمز کے متعدد صحافیوں کے ساتھ انکے قریبی تعلقات تھے جن کو اکثر مواقع پر وہ پاکستان کے حق میں استعمال میں لاتی رہیں.
اسی انٹرویو کے دوران کونی نے یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ 1971ء میں جب مشرقی پاکستان میں، پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ چل رہی تھی اور ذوالفقار علی بھٹو نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ایک اجلاس میں دھواں دھار تقریر کرنے کے بعد انتہائی غصے میں اپنے نوٹس پھاڑ کر اجلاس سے واک آوٹ کر گئے تھے. بھٹو صاحب نے اس تاریخی تقریر میں دوسرے ممالک کے وزرائے خارجہ کے منفی رویئے کے متعلق کھل کر اظہار خیال کیا تھا.
انکے آخری الفاظ اس طرح کے تھے کہ “میرا ملک اس وقت خون میں نہا رہا ہے جبکہ یہاں دیگر لوگ کل کے ناشتے کیا کھایا جائے گا پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں”. وہ یہ کہنے کے بعد اپنے وفد کے ہمراہ سلامتی کونسل سے واک آؤٹ کر گئے تھے.


(کونی نے بھی تصدیق کی ہے کہ بھٹو صاحب نے پولینڈ کی جنگ بندی سے متعلق کوئی قرار داد اس موقع نہیں پھاڑی تھی بلکہ اپنے تحریر کردہ نوٹس کے ہی پرزے کیے تھے، نیویارک میں کونی کی اس بات کی تصدیق راقم الحروف سے ایک ملاقات کے دوران اس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کی کوریج کرنے والے اے پی پی کے نمائندے اور سنئر صحافی چوہدری افتخار احمد نے بھی تصدیق کی ہے کہ حقیقت میں بھٹو صاحب نے اجلاس سے غصے میں اٹھتے ہوئے اپنے نوٹس ہی پھاڑے تھے. اور پولینڈ کی کوئی قرارداد انہوں نے نہیں پھاڑی تھی. افتخار احمد کے مطابق اجلاس کے بعد پھاڑنے گئے پرزوں کو بعد ازاں انہوں نے اپنے ذرائع سے حاصل کر لیا تھا، اور وہ کئی سال تک انکے پاس موجود رہے تھے)
کونی کے انٹرویو کے مطابق بھٹو صاحب کی اس تقریر کے بعد پاکستان مشن نے عجلت میں ایک پریس کانفرنس کال کی . میرے باس اور اس وقت کے پاکستانی مشن کے پریس منسٹر اپنی عارضہ قلب کی سرجری کے باعث ہسپتال میں داخل تھے. میں نے انتہائی شارٹ نوٹس پر ہنگامی بنیادوں پر اس پریس کانفرنس کی کوریج کو مؤثر بنانے کے لیے اہم امریکی میڈیا کے نمائندوں کو پریس کانفرنس میں اکٹھا کر لیا تھا. تاکہ امریکی نشریاتی اداروں میں شام کی خبروں میں مؤثر انداز سے پاکستان کا موقف اجاگر ہو سکے.
گزشتہ کئی سالوں سے کونی سے اقوام متحدہ، مشن، قونصیلیٹ یا دیگر کسی تقریب میں ملاقات ہوتی تو وہ رسمی علیک سلیک کے بعد پاکستان اورکئی اہم پاکستانی لیڈروں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں اور یادوں کے حوالے سے بات چیت شروع کر دیتں. نیویارک اور واشنگٹن میں مقیم پاکستانی صحافیوں خصوصاً مرحوم خالد حسن، افتخار احمد، عظیم ایم میاں،زاہد غنی، مسعود حیدر، انور اقبال، علی عمران،ندیم منظور سلہری ،خلیل بوگھیو، ارشد چوہدری ،سلیم صدیقی ،محسن ظہیر اور دیگر کئی پاکستانی صحافیوں ومقامی اخبارات کے ایڈیٹر ز کے انکا ساتھ انتہائی احترام کا رشتہ تھا.
پاکستان مشن سے 2011ء میں اپنی رئٹائیرمننٹ کے بعد کونی گھر میں فارغ ہو کر نہیں بیٹھیں بلکہ عمر رسیدہ افراد اور خاص کر فلپائنی امریکن کمیونٹی کی فلاح وبہبود کے لیے ایک این جی او، “فلپائن کمیونٹی سنٹر سروسز فار ایجنگ”کی بنیاد رکھی. اور اس کے پلیٹ فارم سے مرتے دم تک اولڈ ایج لوگوں کے لیے کام کرتی رہیں. اسی دوران کنسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوئیں، جس کا انہوں نے جواں ہمتی کے ساتھ مقابلہ کیا.


انکے شوہر مارک شیفر جو ایک پبلک سکول سے سائنس ٹیچر ریٹائرڈ تھے, ان کا 2017ء میں انتقال ہو گیا تھا، جس کا انہیں سخت رنج تھا.تاہم اس کے باوجود بھی اپنی کمیونٹی سرگرمیوں میں وہ پیش پیش رہتیں . آؤٹننگ، پکنک اور اپنے دوستوں کے ساتھ انکا ہلہ گلہ بھی جاری رہا جسکی ایکٹوئٹی وہ اپنے فیس بک پیج پر شئر کرتی تھیں. وہ اکثر اظہار کرتی تھیں کہ “بڑھاپا گھر میں قید ہو کر بیٹھنے کا نام نہیں ہے. بلکہ زندگی میں خوش دلی کے ساتھ آگے بڑھ کر اپنی خوشیوں کے سمیٹنے کا نام ہے “.
کونی اپنی بیماری کے باعث گزشتہ کئی ماہ سے ہسپتال میں داخل تھیں. امریکہ میں اپنے حلقہ احباب میں محبتں بانٹنے والی اور پاکستان کے لیے یہ توانا آواز گزشتہ ہفتے 82 سال کی عمر میں 28 مارچ کو خاموش ہو گئی. کونی نے اپنے سوگواروں میں انہوں نے ایک بیٹی مئےکلئٹیز کو چھوڑا ہے.
کونی کی آخری رسومات گلاسکوٹ فییونرل ہوم کے زیرِ انتظام رواں ہفتے 2 اپریل کو کوئینز، نیویارک کے ہولی چائلڈ جئسس چرچ میں ادا کی گیئں. بعد ازاں فارسٹ ہل کے میپل گروو قبرستان میں انکی تدفین کر دی گئی.
پاکستان کی اقوام متحدہ میں مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے انکی وفات پر اظہار افسوس اظہار کرتے ہوئے مشن اور پاکستان کے لیے انکی انتھک خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں