ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا تاریخی دورہ پاکستان

اسلام آباد (جے ایم ڈی) سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں اقتصادی ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں جن کی بدولت وہ 2030ءتک ایک بڑی معیشت بن جائیگا۔ دو روزہ دورہ پاکستان کی تکمیل پر وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ نور خان ائربیس پر مشترکہ لیکن مختصر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے بہترین مستقبل پر یقین رکھتا ہے اور پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے مزید کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 2018ءمیں 5 فیصد ترقی ہوئی۔ پاکستان کے پاس دنیا کی بڑی معیشت بننے کی اہلیت ہے۔ پاکستان جیوسٹرٹیجک اعتبار سے بھی اہم ملک ہے، آج کا دن روشن مستقبل کی شروعات ہے اور عمران خان کی قیادت میں پاکستان ترقی کر رہا ہے۔ سعودی ولی عہد نے اس موقع پر پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیا اور کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب میں جو بھی سمجھوتے ہوئے ہیں یہ محض ایک شروعات ہے۔ مستقبل میں پاکستان کے ساتھ شراکت مزید بڑھے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق وسعت اختیار کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان معاہدوں سے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مزید مستحکم ہونگے۔ پریس کانفرنس کے بعد وزیراعظم نے انہیں رخصت کیا۔ سعودی ولی عہد کو الوداع کہنے کیلئے وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ و وزیر اطلاعات سمیت ارکان کابینہ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس پی آر اور اعلیٰ حکام نور خان ائربیس پر موجود تھے۔ شہزادہ محمد بن سلمان، وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف سے گلے ملے اور طیارے میں سوار ہو گئے۔ وزیراعظم عمران خان نے ائرپورٹ تک سعودی ولی عہد کی گاڑی خود چلائی۔ سعودی طیارہ جب فضا میں اڑا تو ائرفورس کے طیارے سرحد تک اپنے حصار میں لے کر چھوڑ کر آئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی جیلوں میں قید 2107 پاکستانی قیدیوں کی فوری رہائی کا حکم دیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی تصدیق کی کہ وزیراعظم عمران خان کی استدعا پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے فی الفور سعودی عرب کی جیلوں میں قید 2107 قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا ہے۔ ویزا فیسوں کمی کے بعد یہ ہمارے لئے ایک اور بہت بڑی خبر ہے بہت سے پاکستانی خاندان جو عرصہ دراز سے درخواست کر رہے تھے آج ان کی سنی گئی ہے۔ صدرمملکت عارف علوی نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کو پیر کے روز ایک پروقار تقریب کے دوران پاکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز ’نشان پاکستان‘ عطا کردیا۔ ایوان صدر میں ہونے والی تقریب میں وزیراعظم عمران خان اور صدر مملکت عارف علوی کے علاوہ تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین سینٹ، سپیکر قومی اسمبلی کابینہ ، سفارت کار، حکام اور عمائدین بھی شریک تھے۔صدر عارف علوی نے شہزادہ محمد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔ اس موقع پر دونوں رہنما¶ں میں ملاقات بھی ہوئی۔ صدر نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان سعودی عرب سپریم کوآرڈینیشن کونسل کا قیام انتہائی اہم ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان تاریخی رشتوں میں بندھے دوست ہیں۔ سعودی عرب کی محبت پاکستان کے عوام کے دلوں میں ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان سیاحت کیلئے بہترین ممالک ہیں۔ پاکستان میں سیاحت کے بہترین مواقع ہیں۔ صدر مملکت نے اپنے خطاب میں پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے حکم پر سعودی ولی عہد سے اظہار تشکر کیا۔ صدر مملکت نے ولی عہد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سے پاکستانی قیدیوں کی رہائی پر شکریہ ادا کرنا بھول گیا۔ پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے ذکر پر وزیراعظم کی سعودی ولی عہد سے غیررسمی گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم نے ولی عہد سے سوشل میڈیا پر قیدیوں کی رہائی کی خبر وائرل ہونے کا ذکر کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ سوشل میڈیا وہ ذریعہ نہیں جہاں خبریں اگلے دن آتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر خبریں اگلے گھنٹے پھیل جاتی ہیں۔ اس موقع پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ سعودی عرب کی ترقی میں پاکستانی ہنرمند اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ بڑی تعداد میں پاکستانی سعودی عرب میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مذہبی احترام کی بنیاد پر ہیں۔ صدر پاکستان سے ملاقات میرے لئے اعزاز ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات وقت گزرنے کے ساتھ مضبوط ہو رہے ہیں۔ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی قیادت میں پارلیمانی وفد نے سعودی ولی عہد سے ملاقات کی۔ وفد میں ڈپٹی سپیکر قاسم سوری‘ چیف وہیپ عامر ڈوگر اور وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان شامل تھے۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کو مزید پختہ بنانے کا عزم کیا۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ پاک سعودی دیرینہ اور برادرانہ تعلقات پر پوری قوم کو فخر ہے۔ سعودی عرب ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہے۔ سینٹ میں قائد ایوان شبلی فراز اور قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق‘ سینیٹر مشاہد اللہ‘ سینیٹر اعظم سواتی‘ سینیٹر اورنگزیب نے شرکت کی۔ سینیٹر شیری رحمن موسم کی خرابی کے باعث کراچی سے اسلام آباد نہ پہنچ سکیں۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی پیر کی صبح سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں خطے کی سلامتی کی صورتحال، دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اس ملاقات کے پریس بیان کے بجائے ایک مختصر ویڈیو جاری کی تاہم ذرائع کے مطابق وزیراعظم ہاو¿س میں ہونے والی یہ ملاقات، ولی عہد کے دورہ پاکستان کی اہم سرگرمیوں میں سے ایک تھی۔ ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم آئی ، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور اور سعودی شاہی خاندان کی اہم شخصیات ملاقات کے دوران بھی موجود تھیں۔ دوسری طرف سعودی ولی عہد کے دورہ کے بعد جاری اعلامیہ کے مطابق سعودی ولی عہدمحمد بن سلمان کا دو روزہ دورہ انتہائی کامیاب رہا جس میں پاک سعودی تعلقات کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی گئی۔ سعودی ولی عہد کے دورے میں سیاسی، معاشی، تجارتی، سکیورٹی اور دفاعی شعبوں میں ادارہ جاتی سطح پر تعاون بڑھانے پر بات ہوئی جبکہ دورے میں سپریم رابطہ کونسل کا اجلاس اور پہلا اجلاس بھی اہمیت کا حامل تھا۔ دورے میں تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی۔ سعودی عرب نے پاکستان میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا۔ دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں کئی معاہدے اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔ جاری اعلامیہ کے مطاق سعودی ولی عہدشہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کی کاوشوں پر وزیراعظم عمران خان کی تعریف کی۔ دونوں ملکوں نے تاریخی تعلقات کے مزید استحکام کے عزم کا اعادہ کیا۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دور ہ پاکستان کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان آیا، وفد میں وزراءاور تاجر شامل تھے۔ دونوں ملکوں نے تاریخی تعلقات کے مزید استحکام کے عزم کا اعادہ کیا ۔ وزیراعظم عمران خا ن نے خادم الحرمین شریفین اور سعودی حکومت کی حجاج کیلئے خدمات کو سراہا۔ وزیراعظم نے سعودی ولی عہد کے وژن 2030 کی بھی تعریف کی اور کہاکہ وژن 2030 سے سعودی عرب ترقی کی نئی منازل طے کرے گا۔ سعودی ولی عہد نے بھی وزیراعظم کے پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کے عزم کو سراہتے ہوئے پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ دونوں ملکوں کی قیادت نے دوطرفہ تعلقات کے فروغ پراظہار اطمینان کیا۔ پاکستان نے مسلم امہ کے مسائل کے حل کیلئے سعودی قیادت کے کردار کو سراہا۔ سعودی قیادت نے مسلم امہ میں پاکستان کے مرکزی حیثیت اور مقام کوسراہا۔ دونوں ملکوں نے دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ پر اظہار اطمینان کیا۔ دونوں ملکوں نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب کی دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں لائق تحسین ہیں، دونوں ملکوں نے دہشت گردی کیخلاف جنگ کے شہداءکی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ دونوں ملکوں نے مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کی خواہش کا اظہار کیا ۔ 1967 کے معاہدے کے تحت آزاد فلسطین ریاست کے قیام پراتفاق ہوا۔ سعودی قیادت نے وزیراعظم عمران خان کی بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کو سراہا۔ سعودی ولی عہد نے کرتارپور راہداری کھولنے کے پاکستانی اقدام کی بھی تعریف کی۔ ولی عہد نے کہاکہ مذاکرات خطے میں امن و استحکام اور تصفیہ طلب مسائل کے حل کا واحد راستہ ہیں۔ دونوں ملکوں نے دنیا بھر میں مسلمانوں پر مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی۔ وزیراعظم نے سعودی ولی عہد کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا اور مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعہ حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں ملکوں کا عالمی و علاقائی امورپر مسلم امہ کو درپیش مسائل پر یکساں موقف ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب نے افغان مسئلے کے سیاسی حل پر اتفاق کیا۔ سعودی عرب نے لاکھوں افغان مہاجرین کی پاکستانی میزبانی کو بھی سراہا۔ دونوں ملکوں نے تجارت بڑھانے کے اقدام پر اتفاق کیا۔ مضبوط اقتصادی شراکت داری کیلئے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان کی معاشی ترقی اور شرح نمو میں سعودی عرب اہم شراکت دار ہے۔ جبکہ سعودی ولی عہد نے کہاکہ سی پیک خطے کی ترقی و خوشحالی کیلئے بے حد اہم ہے۔ سعودی شہزادے نے سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے وزیراعظم کی کوششوں کو سراہا۔ اعلامیہ کے مطابق دونوں ملکوں نے بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ڈائیلاگ کی ضرورت پر زور دیا ۔ سعودی ولی عہد نے پرتپاک اور والہانہ استقبال پر وزیراعظم عمرا ن خان کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان کی صحت کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے اس توقع کااظہار کیا کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز جلد پاکستان کادورہ کرینگے۔پاکستان اور سعودی عرب نے دوطرفہ تجارتی، سرمایہ کاری اور عوامی و کاروباری سطح پر تعلقات کے فروغ اور مضبوط اقتصادی شراکت داری استوار کرنے کیلئے نجی شعبہ کی حوصلہ افزائی کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ کا انتہائی اعلیٰ پروٹوکول دیتے ہوئے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو وزیر اعظم ہاﺅس سے صدارتی بگھی میں ایوان صدر لایا گیا وزیراعظم عمران خان ہمراہ بیٹھے تھے۔دونوں رہنماﺅں نے قومی لباس زیب تن کر رکھے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں