ممانی نے ڈیڑھ سالہ بھانجا مار ڈالا (تحریر:عبدالستار مرزا )

بچے بہت نازک ہوتے ہیں دنیا کے تقریبا ہر معاشرے میں ان کی نزاکت اور معصومیت کی مثال دی جاتی ہے بڑی عمر کے افراد پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کی خواہش لیے جیتے ہیں اور ان کی درازی عمر کے لیے روز دعائیں مانگتے ہیں انہی بچوں کی شرارتیں، معصوم حرکتیں اور نادانیاں دیکھ کر گھر کے سب لوگ خوش ہوتے ہیںیہ ان کی معصو میت ہی ہے کہ پتھر سے پتھر دل والا انسان بھی ان کے معصوم چہرے کو دیکھ کر مو م بن جا تا ہے مگر آج کے موجودہ دور میں جہاں یہ سب حقیقتیں اپنی جگہ درست ہیں وہاں یہ بھی سچ ہے کہ یہ پھول جیسے بچے اپنے ہی گھروں میں اپنوں کے ہاتھوں میں ہونے کے باوجود انتہائی غیر محفوظ بھی ہوجاتے ہیں ننھے سے پھول کو بیدردی سے مسل دینے کا ایسا ہی کربنا ک واقعہ گجرات کے گاؤں کالا کمالہ میں پیش آیا جب ایک گرایجویٹ ماں نے نند ،ساس سے انتقام لینے کی آگ میں اندھا ہو کرگھر میں مسکراہٹیں بکھیرنے والے ڈیڑھ سالہ پھول کی ایسے بھیانک طریقے سے زندگی کی سانسیں ختم کیں کہ سننے والوں کی روح تک کانپ اُٹھی کالا کمالہ کے اپنی کزن نائلہ نورین کیساتھ بیاہے جانیوالے محنت کش فیصل محمود نے 29دسمبر 2018ء کو متعلقہ تھانہ ڈنگہ کو اطلاع دی کہ اسکے ڈیڑھ سالہ بچے سلیمان فیصل کوساڑھے 3بجے سہ پہر ننھیال سے اغواء کر لیا گیا ہے جس پرپولیس نے نامعلوم ملزمان کیخلاف اغواء کا مقدمہ درج کر کے تلاش شروع کر دی 24گھنٹے تک بچہ نہ ملنے اور وقوعہ کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے پولیس نے تمام تر صورتحال سے ڈی پی او گجرات سید علی محسن کو آگاہ کیا جنہوں نے ایس ایچ او گلزار رانجھا کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دینے کیساتھ ساتھ ہو میو سائیڈ انچارج فرقان شہزاد کو اس واقعہ کا سراغ لگانے کاخصوصی ٹاسک دیدیا اور خود اسکی لمحہ بہ لمحہ رپورٹس سمیت حالات و اقعات کی نگرانی بھی شروع کر دی اور وقوعہ کے تیسرے روز 31دسمبر 2018ء کی صبح ساڑھے 6بجے جب بچے کی نعش گھر کے صحن سے برآمد ہوئی تو قاتلوں تک پہنچنا پولیس کیلئے مزید چیلنج بن گیا ڈی پی او گجرات نے اپنی محکمانہ مہارت ،تجربہ کی بنیاد اور فرانزک رپورٹ کی روشنی میں تفتیشی آفیسران کو قاتل گھر میں ہی ہونے کا اشارہ دے کر ان سے دوبارہ پوچھ گچھ شروع کر نے کے احکامات جاری کیے جس پر گھر میں موجود تمام افراد کو شامل تفتیش کر لیا گیا اور بالآخر 7روز کی کاوشوں کے بعد پولیس سفاک قاتل تک پہنچ گئی جسکا انکشاف ڈی پی او گجرات سید علی محسن نے پریس کانفرنس میں کرتے ہوئے بتایا کہ اس قتل میں بچوں کو اغواء اور قتل کرنیوالا کوئی گروہ شامل نہیں بلکہ سفاک قاتلا کمسن سلیمان فیصل کی ممانی ماریہ شاہد ہے جسکی شادی دو سال قبل گجرات بار کے ممبر شاہد محمو د ایڈووکیٹ سے ہوئی اورملزمہ خود بھی ایک سالہ بچے ارحم شاہد کی ماں ہے جس نے بچے کو حسد کیوجہ سے قتل کیا ہے گھر والے سلیمان فیصل کوخوبصورت ہونے کی بناء پر اسکے بچے سے زیادہ پیار کرتے تھے اور سلیمان کو اسکی نانی پروین بی بی روزانہ اپنے گھر لے آتی تھی جسکی وجہ سے اسے نہ صرف سلیمان فیصل سے شدید نفرت پیدا ہو چکی تھی بلکہ سسرالیوں کا رویہ بھی اسکے ساتھ ہتک آمیز تھا ہو میو سائیڈ انچارج فرقان شہزاد نے ’’ایکسپریس ‘‘کو بتایاکہ ماریہ کو رنج تھا کہ اسکی نندنائلہ نورین اکثر و بیشتر گھر آکر یہ کہہ دیتی تھی کہ ماریہ کے بیٹے کی شکل و صورت اپنے والدین پر نہیں ہے جس پربھائی شاہد ایڈووکیٹ نے اپنی بیوی ماریہ کی ناراضگی کیوجہ سے بہن کو ایسی بات کئی مرتبہ کہنے سے منع بھی کرتا رہا مگر وہ باز نہ آتی رہی اور ابھی اس بات کا غصہ کم نہ ہوا تھا کہ وقوعہ سے اڑھائی ماہ قبل ماریہ کی ساس پروین بی بی نے اسکے میکے جا کروالدین اور قریبی رشتے داروں کے سامنے برملا کہہ ڈالا جس پر نند اور بھاوج میں تلخ کلامی ہوئی اور ماریہ شاہد نے اسے لڑائی میں واضح طور پر دھمکی دیدی کہ میری عزت پر حرف لانے پر میں اسے ایسا مزہ چکھاؤں گئی کہ وہ ساری زندگی تڑپتی اور روتی رہیگی جس کے بعد نند بھاوج کی دوستی ختم ہو گئی اور ماریہ بدلہ لینے کیلئے موقع کی تلاش میں رہنے لگی کہ اسی دوران ڈیڑھ سال کا سلیمان فیصل نانی کے ہمراہ گھر میں آکر اپنی دوسری ممانی عاصمہ کے کمرے میں گہری نیند میں سورہا تھا کہ کرائم ڈراموں سے متاثر ماریہ شاہد نے بھاوج کے کمرے سے موقع پا کر اسے اُٹھا لیااور اپنے کمرے میں لیجا کربچے کا گلا دبا دیااور پھر نعش کو ٹھکانے لگانے کیلئے اس نے اپنی ساس کے اُس پرانے بڑے صندوق کا انتخاب کیا جسکی چابیاں اس نے کئی ماہ قبل چرا کر گھر میں یہ دھوم مچا دی تھی کہ اسکی چابی گم ہو گئی ہے تاہم نعش سے تیسرے روز بدبو اٹھنے پر اس نے رات گئے نعش صندوق سے نکال کر گھر کے باہر کھلے صحن میں پھینک دی اور صبح خود ہی اسکی نعش مل جانیکا شور مچا کر آہ زاری شروع کر دی پولیس نے فرانز رک رپورٹ ، ویڈیو تصاویر کی مدد سے دوبارہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کر کے تمام خواتین کے کمروں کی تلاشی لیکر بند صندوق تک پہنچی تو انہیں بھی یہ بتایا گیا کہ اسکی چابیاں کھو چکی ہیں اور کئی ماہ سے بند ہے اسی دوران ماریہ کے کمرے میں الماری کی تلاشی لینے پر پرانی چابیوں کیساتھ ساتھ کئی ایسی چیزیں مل گئی جو اسکی دوسری بھاوج عاصمہ ، تنزیلہ کو انکے شوہروں نے ناروے اور انگلینڈ سے بھیجی تھیں اور وہ انکے کمروں سے گاہے بگاہے غائب ہوتی رہی ان چیزدں کو دیکھ کر ماریہ کے شوہر شاہد نے بھی حیرانگی کا اظہار کر دیا کہ یہ کپڑے ،موبائل ، زیورات اسکی بیوی کہ نہیں پولیس نے یہ بات سنتے ہی حالات کھٹک جانے پربند صندوق کو کھول کر جائزہ لیا تو انکا شک یقین میں بدل گیا کہ سلیمان کو قتل کرنے کے بعداسی صندوق میں رکھا گیا تھا پولیس نے ان شواہد کی روشنی میں ملزمہ ماریہ کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کی تو دو روز تک تو اس نے اس فعل کو ماننے سے انکار کیے رکھا مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ پولیس کی تفتیش کے آگے سنگین سے سنگین جرائم کے ملزمان زبان کھولنے پرمجبور ہو جاتے ہیں بالآخر ماریہ شاہد نے اپنے بھیانک روپ کا پردہ چاک کرتے ہوئے اعتراف جرم کر لیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں