گجرات میں پیدا ہونیوالی ہندی ادب کی مہان لکھاری کرشنا صوبتی چل بسیں

تحریر: طاھر محمود چوہدری

بھارت کی معروف ناول نگار کرشنا صوبتی (1925-2019) 93 سال کی عمر میں گزشتہ روز 25 جنوری 2019ء کو نیو دہلی کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئیں. وہ 18 فروری 1925ء میں پاکستان کے ضلع گجرات میں پیدا ہوئیں. انکے آباءواجداد کا تعلق ضلع گجرات کے تھانہ کڑیانوالہ کے موضع جلالپور صوبتیاں سے تھا.
اسی نسبت سے انہوں نے اپنے گاؤں کے نام کو اپنے نام کا بھی حصہ بنایا. قیام پاکستان سے قبل وہ گجرات شہر کے بازار صرافہ میں بھی قیام پذیر رہیں. اور کچھ عرصہ فتح چند کالج برائے خواتین لاہور میں بھی انہوں نے تعلیم حاصل کی.

ابتداء میں کرشنا صوبتی نے لکھنے کا آغاز شاعری سے کیا. تاہم بعد میں وہ فکشن افسانہ، اور ناول نگاری کی طرف مائل ہو گئیں. ہندی زبان کو انہوں نے اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا. اپنی لاتعداد تحریروں میں کرشنا صوبتی نے سماج میں ظلم و زیادتی کی شکار خواتین ، ان کے ساتھ جنس کی بنیاد پر روا رکھے جانے والے سلوک کے خلاف آواز اٹھائی. تقسیم ِ ہند سے قبل کے حالات اور بعدازاں تقسیم کے بعد کے حالات کو انسانی زندگیوں خصوصاً خواتین پر اثر انداز ہونے والے حالات و واقعات کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا.
کرشنا صوبتی نے 1966ء میں شائع ہونے والے اپنے مشہور ناول “مترو مر جانی” میں شادی شدہ خواتین کی سکس لائف سے متعلق کہانیوں کو اپنے ناول کا موضوع بنایا. جس نے کافی شہرت حاصل کی.

“زندگی نامہ” میں انہوں نے قیام پاکستان سے قبل ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ایک ساتھ رہتے ہوئے آپس میں رواداری، محبت، میل جول اور خوشگوار تعلقات کو خصوصیت سے اجاگر کیا. اس انعام یافتہ ناول نے ادبی حلقوں میں خوب پزیرائی حاصل کی.
انکے دیگر مشہور ناولوں میں سورج مکھی اندھیرے کی، یاروں کے یار، ڈار سے بچھڑی، عقل ودانش، زندگی نامہ اور گجرات پاکستان سے گجرات ہندوستان” شامل ہیں اردو تحریروں کی مقبول ویب سائٹ” ریختہ” پر اس زندگی نامہ ناول سمیت انکی ہندی سے اردو میں ترجمہ کی ہوئی دیگر کتابیں بھی پڑھی جا سکتی ہیں.
گزشتہ سال ہی ان کی سوانح عمری پر مبنی ناول “گجرات پاکستان سے گجرات ہندوستان” شائع ہوئی تھی. جس کو ادبی حلقوں میں بہت سراہا گیا. 1980ء میں انکے ناول “زندگی نامہ” پر انہیں ادب کے “سہتیہ ایوارڈ” سے نوازا گیا. اور پھر 1917ء میں بھارتی ادب میں اعلیٰ خدمات کے اعتراف میں وہ بھارت کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ “گیان پیتھ” کی بھی حقدار ٹھہریں.
فکشن رائیٹنگ، مختصر کہانی نویسی، افسانہ اور ناول نگاری کے میدان میں انہوں نے متعدد یادگار اور کلاسک تحریریں رقم کیں. جو اب انکی وفات کے بعد بھی دونوں ممالک میں ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے ذہن وقلب کو گرماتی رہیں گی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں