1100 سے زائد سرکاری ملازمین دوہری شہریت کے مالک نکلے

اسلام آباد(جے ایم ڈی) 1100 سے زائد وفاقی اور صوبائی سرکاری ملازمین دہری شہریت کے مالک نکلے، مذکورہ افسر اہم حکومتی عہدوں پر بھی براجمان ہیں۔ گریڈ 22 کے 6 جبکہ ایم پی ون سکیل کے 11، گریڈ 21 کے 40، گریڈ 20 کے 90، گریڈ 19 کے 160، گریڈ 18 کے 220 اور گریڈ 17 کے کم و بیش 160 ملازمین دہری شہریت رکھتے ہیں۔ ان سرکاری ملازمین میں سے 540 نے کینیڈا کی شہریت لے رکھی ہے جبکہ 240 نے برطانیہ اور 190 کے قریب نے امریکہ کی شہریت لے رکھی ہے۔ اسی طرح درجنوں سرکاری ملازمین نے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ملائیشیا اور آئرلینڈ جیسے ملکوں کی بھی شہریت لے رکھی ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کو ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی وفاقی حکومت دہری شہریت کے حامل سرکاری ملازمین کے لیے تا حال کوئی ڈیڈ لائن مقررنہ کر سکی کہ کب تک وہ یا تو اپنی دہری شہریت چھوڑ یں گے یا ملازمت۔ حکومتی موقف جاننے کے لیے وزیر اعظم کے ترجمان افتخار درانی اور وفاقی وزیر اطلاعات سے رابطہ کیا گیا لیکن انھوں نے کسی بھی بات کا جواب دینے سے گریز کیا۔دستاویزات کے مطابق داخلہ ڈویژن کے 20، پاور ڈویژن 44، ایوی ایشن ڈویژن 92، خزانہ ڈویژن 64، پٹرولیم ڈویژن 96، کامرس ڈویژن 10، آمدن ڈویژن 26، اطلاعات و نشریات 25، اسٹیبلشمنٹ 22، نیشنل فوڈ سکیورٹی 7، کیپیٹل ایڈمنسٹریشن 11،مواصلات ڈویژن 16، ریلوے ڈویژن 8، کیبنٹ ڈویژن کے 6 افسر دہری شہریت کے حامل ہیں۔ دستاویزات کے مطابق سب سے زیادہ دہری شہریت کے حامل افراد کا تعلق محکمہ تعلیم سے ہے اور ان کی تعداد 140 سے زیادہ ہے۔ اسی طرح قومی ایئر لائن کے 80 سے زیادہ ، لوکل گورنمنٹ 55، سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر 55، نیشنل بینک 30، سائنس اور ٹیکنالوجی 60، زراعت 40 سے زیادہ، سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمشن 20، آبپاشی 20، سوئی سدرن 30، سوئی ناردرن 20، پی ایم ایس 17، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس 14، نادرا کے 15 ملازمین دہری شہریت کے حامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں