گجرات کی سیاسی ڈائری

گجرات کی سیاسی ڈائری

(تحریر:حسام الدین کرامت )

ملکی سیاسی منظر نامے میں گجرات کی اہمیت جدا گانہ رہی ہے ۔وزیر اعظم ،وزیر اعلیٰ، وفاقی و صوبائی وزراء ،مشیروں سے یہ خطہ کم ہی خالی رہا، نئی حلقہ بندیوں کے بعد ضلع گجرات چار قومی اور صوبائی کے سات حلقوں پر مشتمل ہے ۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 25 جولائی کو ہونیوالے عام انتخابات میں ایک سو بائیس جماعتیں مختلف نشانات پر انتخابات لڑ یں گی۔ آزاد امید واران کی تعداد اس سے الگ ہے ۔گجرات میں چند حلقوں پر پاکستان مسلم لیگ ق اور پاکستان تحریک انصاف کا اتحاد ہو ا ہے جسے بہت بڑی تعداد میں کارکنان تا حال قبول نہیں کر رہے اور اسے ایک غیر فطری اتحاد گردان رہے ہیں ۔انکا کہنا ہے کہ اگر عمران خان نے ان ہی لوگوں کو ملا کر وزیر اعظم بننا تھا تو پرویز مشرف کے دور میں جب عمران خان کے بقول انہیں وزیر اعظم کی پیشکش ہوئی تھی تو تب ہی بن جاتے۔ سیاست میں چونکہ کوئی بات حرفِ آخر نہیں ہوتی اس لئے ماضی میں ایک دوسرے کیخلاف انتہائی سخت زبان استعمال کرنے والی طرفین کی قیادت آج باہم شیرو شکر ہیں جبکہ ان کے لئے دشمنیاں مول لینے والی عوام ہکا بکا ہیں ۔حسب سابق حلقہ این اے 68 سے روایتی حریف ن لیگی نوابزدہ خاندان اور ق لیگی چوہدری برادران ہیں اس نشست پر پیپلز پارٹی کے سابق ممبر ایگزیکٹو کونسل جو حال ہی میں ن لیگ میں شامل ہوئے اور چوہدری وجاہت حسین کے بیٹے چوہدری حسین الٰہی آمنے سامنے ہیں ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے سابق ممبر صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی29سے نوابزاہ حیدر مہدی دوبارہ ا نتخاب لڑ رہے ہیں یہاں پاکستان تحریک انصاف نے اپنا امید وار کھڑا نہیں کیا جبکہ صوبائی حلقہ پر بھی تحریک انصاف نے ق لیگ کے حق میں اپنا امید وار دستبردار کروالیا ۔ ق لیگ قومی اسمبلی کے اس حلقہ سے کافی مضبوط ہے اور عمر کے آخری حصہ میں نوابزدہ غضنفر گل اپنے رویہ کی وجہ سے کافی مخالفت رکھتے ہیں ۔جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے چوہدری اظہر اقبال انتخاب لڑ رہے ہیں۔
حلقہ این اے69 سے چوہدری پرویز الٰہی جو گذشتہ دور حکومت میں یہاں سے ہی ممبر قومی اسمبلی تھے اور سوائے فاتحہ اور شادیوں میں شرکت کے کچھ نہ کر سکے پھر سے امید وار ہیں اور یہاں بھی پاکستان تحریک انصاف ق لیگ کو پیاری ہو گئی اور الحاج محمد افضل گوندل جیسا مخلص کارکن ٹکٹ سے محروم رکھا گیا اور کاغذات نامزدگی جو انہوں نے آزاد حیثیت سے جمع کروائے تھے عمران خان کے کہنے پر واپس لے لیے۔چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ صوبائی حلقہ سے سلیم سرور پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امید وار ہیں ۔ سلیم سرور ق لیگ کے ذہنی طور پر خلاف ہیں اور بر ملا اظہار کرتے رہے مگر یہ سیاست کے رنگ ہیں کہ آج انہیں چوہدری پرویز الٰہی کے لئے ان کے ٹریکٹر پر بیٹھ کر بلے سے پہلے ٹریکٹر کیلئے ووٹ مانگنے پڑ رہے ہیں ۔یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ گذشتہ دور میں قومی کی نشست چوہدری پرویز الٰہی اور صوبائی نشست پر ن لیگی حاجی عمران ظفر تھے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سر سے باہمی تعاون تو درکنار دونوں ایک دوسرے کا نام سننے کو تیار نہیں تھے جس کا نقصان گجرات کے باسیوں کو ہوا کہ کوئی بھی صحیح فلاحی ترقیاتی کام نہ ہو سکا۔ اب بھی گمان ہے کہ ایسا ہی ہو گا کیونکہ یہاں بھی اگر یہ اتحاد جسے لوگ غیر فطری کہتے ہیں زیادہ دیر نہ چل سکا تو خمیازہ گجرات والوں کو بھگتنا ہو گا۔ چوہدری پرویز الٰہی نے گذشتہ دور حکومت میں گجرات کے لیے کچھ نہ کیا نہ سلیم سرور کا اتنا وژن ہے کہ اس پر بات کریں یا کچھ کام کریں۔رہی سہی کسرمزید نکلے گی کیونکہ سٹی مےئر ن لیگ اور ضلعی چےئرمین بھی ن لیگ کا ہے۔ہار کے خوف سے ق لیگی میاں عمران مسعود نے پی ٹی آئی کے حق میں بیٹھے میں عافت جانی۔پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے وزیر النساء ایڈووکیٹ سامنے آئی ہیں ان کے ساتھ صوبائی نشست پر چوہدری رضوان دلدار جیسی متحرک ،ہر دلعزیز اور بے داغ شخصیت انتخاب لڑ رہے ہیں دونوں کی ڈور ٹو ڈور کمپین سے انکی پوزیشن دن بدن مستحکم ہو تی جا رہی ہے۔۔متحدہ مجلس عمل کی جانب سے ڈاکٹر طارق سلیم جیسا مضبوط امیدوار میدان میں اتارا گیا ہے۔ڈاکٹر طارق سلیم امیر ضلع ہیں اور ہر شعبہ زندگی میں انکے چاہنے والوں کی بے شمار تعداد موجود ہے ۔ ن لیگی حاجی اورنگزیب بٹ بھی اسی صوبائی حلقہ سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے ہیں کیونکہ ان کے سٹی مےئر حاجی ناصر محمود کے ساتھ شدید اختلافات ہیں اور حاجی ناصر کے بھتیجے حاجی عمران ظفر پارٹی کی جانب سے اس نشست پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔تحریک لبیک کی جانب سے کاشف حسین ایڈووکیٹ انتخاب لڑ رہے ہیں ۔ا ن امید واران کے علاوہ آزاد امید واروں کی بڑی تعداد بھی موجود ہے ۔این اے 69 سے ن لیگ کے چوہدری مبشر حسین میدان میں پھر سے آئے ہیں مگر انکے جیتنے کے امکانات انتہائی کم ہیں جسکی وجہ انکی عوام میں غیر مقبولیت اور فاصلہ ہے۔تحریک لبیک سے راجہ سلامت اور متحدہ مجلس عمل سے قومی اسمبلی کی اس نشست پر چوہدری انصر دھول ایڈووکیٹ موجود ہیں۔ اگر مجموعی طور پر بات کی جائے تو فیصلہ تو بحر حال عوام نے 25 جولائی کو کرنا ہے تاہم شہر کے حوالے سے محسوس کیا جا سکتا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی قومی اسمبلی کی نشست باآسانی جیت جائیں گے جبکہ شہر کی صوبائی نشست پر ڈاکٹر طارق سلیم،چوہدری رضوان دلدار ،سلیم سرور جوڑا،حاجی اورنگزیب بٹ میں سخت مقابلہ ہوگا۔حلقہ این اے 70 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر و سابق وفاقی وزیر چوہدری قمر زمان کائرہ، پاکستان تحریک انصاف کے سید فیض الحسن شاہ اور پاکستان مسلم لیگ ن کے چوہدری جعفر اقبال انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں